بنگلورو، 29/دسمبر(ایس او نیوز) بروہت بنگلور مہا نگر پالیکے( بی بی ایم پی ) میں اپوزیشن پارٹی لیڈر پدنابھ ریڈی نے کہا کہ سال2017ء بی بی ایم پی کے لئے بدعنوانیوں کا سال کہنا غلط نہیں ،تمام کام حکومت ہی کرتی رہی تو میئر سمیت تمام 198کارپوریٹر س کیوں رہیں۔ تمام استعفیٰ دے کر گھر چلے جائیں۔ آج بی بی ایم پی کونسل اجلاس میں پدماناتھ ریڈی نے حکمران جماعت کی کارکردگی پر نکتہ چینی کی اورکہا کہ بی بی ایم پی کیلئے 198کراپوریٹران منتخب ہوکر آئے ہیں ۔ جن میں 12اسٹینڈنگ کمیٹیوں کیلئے چیئرمین بھی منتخب ہوئے ہیں۔ پدمانابھ ریڈی نے کہا کہ حکومت ان تمام کارپوریٹران اور چےئرمینوں کو پوری طرح نظر انداز کرکے صرف4افسران کی جانب سے تیار کردہ اسکیموں کوربڑ اسٹامپ کی مانند کمشنر منجوناتھ پرساد کی جانب سے کئے گئے دستخط کو ہی ضابطہ مان کر اسکیم کومرتب کررہی ہے۔اگر ایسا چلتا رہا توکارپوریٹران کی موجودگی سے کیا فائدہ ہے ۔ پدما نابھ ریڈی نے کونسل اجلاس میں کہا کہ کسی بھی پراجکٹ شروع کرنے سے قبل اسے متعلقہ اسٹینڈنگ کمیٹی کے سامنے پیش کرنا پڑے گا اور اس کمیٹی سے پراجکٹ کیلئے منظوری حاصل کرنالازمی ہے ۔اس کے بعد ہی اس تجویز کوحکومت کے سامنے پیش کیا جانا ہے۔قوانین کے مطابق اس طرح کا اقدام ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سدارامیا کی قیادت والی ریاستی حکومت نے گزشتہ تین دن قبل کروڑوں روپئے کے تعمیری کاموں کو منظوری دے دی ہے ۔ اس بات کاعلم کسی بھی کارپوریٹر کونہیں ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ بی بی ایم پی کمشنر نے دستخط کرکے فائل آگے بڑھا دی ہے ۔ اس پر انہوں نے اپنی ناراضگی جتاتے ہوئے کہا کہ کونسل کے علم میں لائے بغیر کس طرح تعمیری کاموں کی منظوری دی اس کی وضاحت کرنے کی انہوں نے مانگ کی اور سوال کیا کہ آئین کے 74میں ترمیم کا اختیار کس نے دیا؟ انہوں نے بتایا کہ کسی بھی سڑک کو اپنی جانب سے تعمیر کرنے کا حق کارپوریٹران کو نہیں دیا گیا تو ان کا کونسل میں رہ کر کیا فائدہ ؟ انہوں نے کہا کہ آئین میں انہیں جو حقوق دےئے گئے ہیں اس سے انہیں محروم کردیا گیا ہے۔ پدمانابھ ریڈی نے کہا کہ وہ کسی ایک پارٹی کی حمایت میں یہ بیاں نہیں دے رہے ہیں۔ بلکہ بی بی ایم پی کے تمام 198وارڈوں کے کارپوریٹران کی جانب سے آواز اٹھائی ہے اور مشورہ دیا کہ اگر ان کے اختیارات ہی چھین لئے جائیں تو ان کا یہاں رہنا ضروری نہیں ہے ۔ اس لئے تمام 198کارپوریٹران 12اسٹینڈنگ کمیٹیوں کے صدور ،مےئر اور ڈپٹی مےئر اپنا استعفیٰ دے کر واپس گھر لوٹ جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ وائٹ اینڈ بلاک منی( سفید اورکالادھن) کی بات سنی ہے لیکن اب شہرمیں وائٹ اینڈ بلاک کام شروع ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جن سڑکوں پر ٹارڈالا جارہا ہے وہ کالے کام ہیں اور جن سڑکوں پر وائٹ ٹیپنگ ہورہی ہے وہ سفید کام ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جہاں تعمیری کام کئے گئے ہیں ۔ اس کے لئے کتنے کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ہیں اس کے متعلق کسی بھی کارپوریٹر کو پتا نہیں ہے ۔ تمام کام اب راست حکومت ہی کرنے لگی ہے۔ پدما نابھ ریڈی نے کہا کہ اب آئندہ کارپوریشن کے تمام 198 کارپوریٹروں کو اپنے حق کااستعمال کرنے کا موقع حاصل کرنا پڑے گا۔